اُرومتشی، چین – 2 دسمبر 2025: اُرومتشی میں منعقد ہونے والے ٹیان شان فورم برائے وسطی ایشیا اقتصادی تعاون کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال چوہدری نے خطے میں اقتصادی انضمام اور باہمی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور عالمی منڈیوں کے درمیان ایک اسٹریٹجک پل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے ذریعے ترقی پر مبنی تعاون کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اپنی تقریر میں پروفیسر احسن اقبال نے علاقائی انضمام کے لیے چار قابلِ عمل فریم ورک پیش کیے۔ ان میں کنیکٹیویٹی اور اقتصادی انضمام کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کا قیام شامل ہے، جو ریلوے، بندرگاہوں اور ڈیجیٹل تجارت کے نظام کو ہم آہنگ کرے گی۔ دوسرا فریم ورک علاقائی خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سے متعلق ہے، جو صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یوریشین انرجی اینڈ گرین ٹرانزیشن پارٹنرشپ کی تجویز دی، جس کا مقصد بجلی کی تجارت، تجدید پذیر توانائی میں تعاون اور موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کو فروغ دینا ہے۔ چوتھا فریم ورک ڈیجیٹل سلک روڈ اور فیوچر اسکلز الائنس ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا، جدت کی حوصلہ افزائی ہوگی اور خطے میں علم پر مبنی معیشت کو مضبوط کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز—جن میں موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی ارتقا، انسانی ترقی کے خلا اور مالی رکاوٹیں شامل ہیں—کا حل پیش کرتے ہیں اور پائیدار ترقی کی راہیں کھولتے ہیں۔
وزیر نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پاکستان کی ترقی پر ہونے والے نمایاں اثرات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے تحت 8,000 میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کی گئی، 1,000 کلومیٹر سے زائد جدید شاہراہیں تعمیر ہوئیں، گوادر بندرگاہ فعال ہوئی، خصوصی اقتصادی زونز کی بنیاد رکھی گئی، اور مستقبل میں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قائم کیا گیا۔
انہوں نے وسطی ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن (CAREC) فریم ورک کا بھی حوالہ دیا، جو 11 ممالک کو چھ بڑے اقتصادی و تجارتی کاریڈورز کے ذریعے جوڑتا ہے۔ انہوں نے اسے دنیا کا سب سے بڑا مربوط رابطہ کاری نظام قرار دیا، جو جدید بارڈر مینجمنٹ اور بہتر تجارتی سہولتوں کے ساتھ خطے کو مزید قریب لاتا ہے۔
اختتامی کلمات میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ 21ویں صدی کا تعین محض جغرافیہ نہیں کرے گا بلکہ وہ اسٹریٹجک فیصلے کریں گے جو ممالک آج کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنہائی کے بجائے رابطے، تقسیم کے بجائے تعاون اور قلیل مدتی فائدے کے بجائے طویل مدتی وژن اختیار کرنا ہی پاکستان، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو استحکام، جدت اور مشترکہ خوشحالی کی طرف لے جائے گا۔

