بیجنگ، 9 جنوری (ویب ڈیسک): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ گزشتہ پچھتر برسوں کے دوران پاکستان اور چین نے باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کی مضبوط روایت قائم کی ہے، اور بدلتے عالمی حالات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی مسلسل گہری ہو رہی ہے۔
چینی خبر رساں ادارے پیپلز ڈیلی آن لائن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ 2026 میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی پچھتر ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور اہم امور پر بھرپور حمایت کی ہے اور قیادت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر قریبی تعاون کے ذریعے عملدرآمد جاری رکھا ہے، بالخصوص معیشت اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں۔
انہوں نے کہا کہ نئے دور میں چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے کوششیں تیز کی جا رہی ہیں، جبکہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک عوامی فلاح پر مبنی راہداری کی تعمیر پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں تاکہ عام شہریوں کو براہِ راست فوائد حاصل ہوں۔
زرعی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کی کمپنیوں نے مرچ، سرسوں اور تل جیسی فصلوں میں تعاون کے ذریعے مثبت نتائج حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد پاکستانی زرعی مصنوعات چینی منڈیوں تک رسائی حاصل کر چکی ہیں، جس سے پاکستانی کسان علاقائی قدر کی زنجیروں سے جڑ رہے ہیں اور ان کی آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2025 میں پاکستان نے چین میں ایک ہزار زرعی ماہرین کی تربیت کا پروگرام شروع کیا، جس کے تحت دو مرحلوں میں ماہرین چین بھیجے گئے تاکہ وہ زرعی جدت اور جدید کاشتکاری کی مہارتیں سیکھ سکیں۔ آئندہ مرحلے میں دونوں ممالک زرعی قدر کی پوری زنجیر میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے کی بہتری اور جدید کاری میں مدد ملے گی۔
صنعت اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون سے پاکستانی عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی شمسی توانائی کے آلات، برقی گاڑیاں اور برقی موٹر سائیکلیں پاکستانی منڈی میں آ چکی ہیں، جس سے روزمرہ زندگی اور کام کاج آسان ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں پیداواری یونٹس قائم کیے ہیں، جو صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ کمزور بنیادی ڈھانچے اور مہنگی توانائی والے علاقوں میں چین کی نئی توانائی ٹیکنالوجی عوامی فلاح کے لیے امید کی کرن بن رہی ہے۔
خلائی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اب تک مشترکہ طور پر نو سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکے ہیں، جو مواصلات، زمینی مشاہدے، دور سے پیمائش اور قمری مشنز جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ رواں سال ایک پاکستانی خلا باز چینی خلائی اسٹیشن کا دورہ کرے گا، جو خلائی شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان قابلِ اعتماد اور دیرپا شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔
چین کی معاشی ترقی کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کے ترقیاتی امکانات بہت وسیع ہیں اور 2026 میں چین اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور کھلے پن کی پالیسیوں نے عالمی توجہ حاصل کی ہے اور پاکستان چین کے جدید کاری کے تجربے سے سیکھنے اور تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔
عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیچیدہ اور تیزی سے بدلتے بین الاقوامی ماحول میں چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کیے گئے چار عالمی اقدامات کو عالمی برادری میں وسیع پذیرائی ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز کے لیے دوراندیش حل فراہم کرتے ہیں اور علاقائی و عالمی استحکام، طویل المدتی ترقی اور انسانیت کے ہم نصیب مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں پاکستان اور چین نے نئے دور میں چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے ایک عملی منصوبہ جاری کیا تھا، جس کے تحت عملی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور پاکستان نے ہمیشہ چین کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر غیر متزلزل حمایت فراہم کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے اور پاکستان ایک چین کی پالیسی پر مضبوطی سے قائم رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہر صورت کی مخالفت کرنی چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی بڑھائیں یا باہمی اعتماد کو نقصان پہنچائیں۔ ان کے مطابق مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا، ترقی کو ترجیح دینا اور ایک مستحکم ماحول قائم کرنا علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے، جو ایشیا اور دنیا میں دیرپا امن، مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی بنیاد فراہم کرے گا۔

